حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ الہند میں ہفتہ وار درسِ اخلاق کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں مدرسہ کے اساتذہ اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید غلام حسین ہلوری نے ’’کردار سازی قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر مؤثر اور تربیتی خطاب کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں قول و عمل کی یکسانیت، حسنِ کردار، تقویٰ، اخلاقی تربیت اور سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی عملی پیروی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کا حقیقی اثر انسان کے کردار اور عملی زندگی میں نمایاں ہونا چاہیے۔ محض اچھی بات کہنا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ انسان خود بھی ان تعلیمات پر عمل کرے اور اپنے کردار کے ذریعے دوسروں کے لیے نمونہ بنے۔

پروگرام کی ابتدائی سرگرمیاں
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ سیدہ کریمہ بتول نے اپنے منفرد اور دل نشیں انداز میں تلاوتِ قرآنِ کریم کی۔ بعد ازاں سیدہ راضیہ بتول اور سیدہ ممتاز فاطمہ نے بہترین انداز میں منقبت پیش کی، جبکہ مدرسہ بنت الہدیٰ کی طالبات کے گروپ نے خوبصورت انداز میں تواشیح پیش کرکے پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض سیدہ ضحیٰ بی بی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
ذمہ داران اور اساتذہ کی شرکت
مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ کے سربراہ مولانا عقیل رضا ترابی صاحب قبلہ علالت کے باعث زیرِ علاج ہونے کی وجہ سے پروگرام میں شرکت نہ کرسکے۔ ان کی عدم موجودگی میں پروگرام کی نگرانی محترمہ سیدہ علی فاطمہ صاحبہ، ناظمۂ تعلیم، نے انجام دی، جبکہ محترمہ سیدہ علقمہ بتول صاحبہ، معلمۂ مدرسہ، نے طالبات کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں میں بھرپور تعاون کیا۔

پروگرام میں بطورِ مہمانِ خصوصی حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید وسیم عباس نجفی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مدرسہ کے اساتذہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید محمد ثقلین اور جناب قاری محمد اسجد بھی موجود رہے۔
درسِ اخلاق کے اہم نکات
درسِ اخلاق کے دوران حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید غلام حسین ہلوری نے قرآنِ کریم اور تعلیماتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں کردار سازی کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے بالخصوص اس امر پر زور دیا کہ انسان کی حقیقی پہچان اس کی گفتگو سے زیادہ اس کے کردار اور عملی رویّے سے ہوتی ہے۔
انہوں نے سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام، بالخصوص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امام حسین علیہ السلام کی زندگی و کردار کو عملی تربیت کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے طالبات کو متوجہ کیا کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت اور نسبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان کی تعلیمات ہمارے اخلاق، کردار، گفتار اور معاشرتی رویّوں میں نمایاں ہوں۔
مقررِ محترم نے طالبات کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ اپنی عملی زندگی میں قرآنِ کریم کی تعلیمات، تقویٰ، حسنِ اخلاق، والدین و اساتذہ کے احترام اور سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کو اپنا شعار بنائیں؛ کیونکہ ایک باکردار انسان اپنی گفتار سے زیادہ اپنے عمل کے ذریعے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
آخر میں مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کی جانب سے تمام مہمانان، اساتذہ اور طالبات کا شکریہ ادا کیا گیا۔

درسِ اخلاق کا مکمل متن مندرجہ ذیل ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾(سورۃ الصف، آیات ۲، ۳)
سب سے پہلے میں آپ سب کو اس خوب صورت جذبے اور قابلِ قدر کوشش پر مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں جو آپ نے تعلیم و تربیت کے سلسلے میں پیش کی ہے۔ حقیقتاً یہ ہمارے لیے باعثِ مسرت اور قابلِ فخر ہے کہ ہماری بیٹیاں اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے زیرِ سایہ پروان چڑھ رہی ہیں اور اپنے اساتذۂ کرام کی محنت و تربیت کے ذریعے دین، قرآن اور سیرتِ اہلِ بیت علیہم ا وابستگی کا اظہار کر رہی ہیں۔
آج کے ماحول میں، جہاں بعض اوقات نئی نسل کی زبان پر ایسے افکار و تصورات سنائی دیتے ہیں جو ہماری دینی اور تہذیبی شناخت سے ہم آہنگ نہیں، وہاں یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ ہماری یہ بیٹیاں قرآنِ کریم، اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت و کردار سے اپنی شناخت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
آپ نے بہترین انداز میں تلاوتِ قرآن پیش کیا، منقبت پیش کی اور اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت و معرفت سے سرشار کلمات پیش کیے۔ میں آپ سب کو اس کوشش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آپ کے اساتذۂ کرام کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آپ کی ایسی تربیت کی کہ آپ دین سے اپنی وابستگی کو اچھے انداز میں پیش کر سکیں۔

میں اپنی ان بیٹیوں سے ایک اہم بات عرض کرنا چاہتا ہوں:
آپ کی اہلبیت علیہم السلام سے یہ نسبت (سادات ہونا) صرف ایک اعزاز نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔
آپ سید چھپرہ اور ضبطی چھپرہ جیسی دو بستیوں سے تعلق رکھنے والی ان بہت سی بچیوں کی نمائندگی کر رہی ہیں جو دینی تعلیم و تربیت کیلئے تشنہ ہیں۔ ان شاء اللہ، آپ کے ذریعے تعلیماتِ اہلِ بیت علیہم السلام، بالخصوص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت و تعلیمات، آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی۔
میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ آپ صرف اپنے انتخاب کی وجہ سے یہاں موجود نہیں ہیں بلکہ یہ اہلِ بیت علیہم السلام کا انتخاب ہے ان کا لطف و کرم آپ کے شامل حال ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ موقع عطا فرمایا ہے کہ آپ ان تعلیمات کو آگے پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ اس نسبت کو صرف فخر کا عنوان نہ بنائیں بلکہ اسے اپنی زندگی کی ذمہ داری سمجھیں۔
بس خیال رہے خود کو اس طرح اہلبیت علیہم السلام کے اخلاق و سیرت سے آراستہ کریں کہ زبان خاموش رہے کردار بولےـ
میں نے جس آیتِ کریمہ کی آپ کے سامنے تلاوت کی ہے، وہ سورۂ صف کی دوسری اور تیسری آیت ہے جو ہمیں یہی تعلیم دے رہی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾
یعنی:اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے؟! اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جس پر خود عمل نہ کرو۔
یہ آیت ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے:
صرف بولنا ہنر نہیں ہے؛ اصلی ہنر یہ ہے کہ ہماری زبان سے زیادہ ہمارا کردار بولے۔
بولنا تو ہر انسان جانتا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان جو کچھ دوسروں سے کہتا ہے، کیا وہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہے؟
اگر ہم کسی کو نماز کی تعلیم دینا چاہتے ہیں تو پہلے خود نماز کے پابند بنیں۔ اگر کسی کو قرآن سے وابستگی کی دعوت دینا چاہتے ہیں تو پہلے خود قرآن سے وابستہ ہوں۔ اگر کسی کو نصیحت کرنا چاہتے ہیں تو جس بات کی نصیحت کر رہے ہیں، پہلے خود اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
کیونکہ جب انسان خود عمل کرتا ہے تو اس کی بات صرف زبان سے نہیں، دل سے نکلتی ہے؛ اور جو بات دل سے نکلتی ہے، وہ دل پر اثر کرتی ہے۔
اس کے برعکس، اگر انسان خود عمل نہ کرے اور صرف دوسروں کو نصیحت کرتا رہے تو اس کی بات اکثر زبان کی حد تک محدود رہ جاتی ہے۔ ایسی بات ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل جانے کے مترادف ہو سکتی ہے۔
اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ دنیا کے سامنے وہی بات رکھیں جس پر خود عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر ہم کسی کو نمازِ شب کی ترغیب دینا چاہتے ہیں تو پہلے خود نمازِ شب پڑھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم کسی انسان کو جھوٹ سے روکنا چاہتے ہیں تو پہلے خود جھوٹ بولنے سے پرہیز کریں۔

ورنہ ہماری حالت اس شخص جیسی ہو جائے گی جو دوسروں کو آئینہ دکھانے نکلا ہو اور خود اندھیرے میں کھڑا ہو۔
چراغ وہاں روشن کیا جاتا ہے جہاں خود روشنی موجود ہو، اور اس روشنی کا نام کردار ہے۔
تربیت میں قول کے ساتھ عمل ضروری ہےـ
ایک معروف تربیتی واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص اپنے بچے کو لے کر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
یا رسول اللہ! میرا بچہ بہت زیادہ میٹھا کھاتا ہے، آپ اسے میٹھا کھانے سے منع فرما دیں۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کل آنا۔
وہ شخص اگلے دن بچے کو لے کر حاضر ہوا تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو میٹھا کھانے سے منع فرمایا۔
اس شخص کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ اگر یہی بات آج کہنی تھی تو کل ہی کیوں نہ فرما دی؟ اس نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کل بھی تو آپ یہی بات فرما سکتے تھے، پھر مجھے آج آنے کے لیے کیوں فرمایا؟
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی علت بیان فرمائی کہ کل میں نے خود میٹھا کھایا تھا؛ اس لیے مناسب نہ تھا کہ میں خود میٹھا کھا کر بچے کو میٹھا کھانے سے منع کرتا۔ آج میں نے خود اس سے پرہیز کیا ہے، اس لیے اب اسے منع کر رہا ہوں۔
اس واقعہ کا اصل تربیتی سبق یہ ہے کہ مربی کی بات اس وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اس کا اپنا عمل اس کی بات کی گواہی دے رہا ہو۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ میٹھا کھانا بذاتِ خود حرام نہیں؛ بلکہ واقعے کا تعلق تربیتی اسلوب اور مربی کے عملی نمونے سے ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو یہی ہے کہ وہ دوسروں کو جس خیر کی دعوت دیتے تھے، خود بھی اس کے عملی نمونے پیش کرتے تھے۔ اسی لیے ان کے کلمات محض الفاظ نہیں رہتے تھے بلکہ دلوں پر اثر ڈالتے تھے۔
ہمیں بھی چاہیے کہ اگر کسی کو نماز کی دعوت دیں تو خود نماز کے پابند ہوں، اگر کسی کو قرآن سے وابستگی کی ترغیب دیں تو خود قرآن سے وابستہ رہیں اور اگر کسی برائی سے روکیں تو پہلے خود اس برائی سے بچنے کی کوشش کریں۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کردار کی عملی تصویر
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا مطالعہ ہمیں کردار کی عظیم مثالیں عطا کرتا ہے۔
حضرت فضہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ گھر کے امور میں کام کی تقسیم کا واقعہ اسی تربیتی روح کو واضح کرتا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے گھر کے کاموں میں اس طرح تقسیم رکھی کہ ایک دن حضرت فضہ کام کرتیں اور دوسرے دن خود حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا گھر کے امور انجام دیتیں۔
یہاں ہمیں ایک عظیم تربیتی اصول ملتا ہے:
عظمت یہ نہیں کہ انسان اپنے مقام کی بنیاد پر دوسروں کو کمتر سمجھے؛ عظمت یہ ہے کہ بلند مقام رکھنے کے باوجود دوسروں کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جائے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے عملی کردار سے یہ دکھایا کہ انسان کا مقام جتنا بلند ہو، اس کے اندر تواضع اور دوسروں کے احترام کا جذبہ بھی اتنا ہی نمایاں ہونا چاہیے۔
اگر آپ لوگوں کی عزت کریں گے تو ان کے دل میں بھی آپ کے لیے احترام پیدا ہوگا۔ اسی کو کردار کہتے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام اور اصلاحِ معاشرہ
حضرت امام حسین علیہ السلام کی تحریک بھی ہمیں اصلاح، ذمہ داری اور عملی کردار کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
آپ نے اپنے قیام کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:«إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا، وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي، أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَسِيرَ بِسِيرَةِ جَدِّي وَأَبِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ.»
یعنی:میں نہ سرکشی اور خودنمائی کے لیے نکلا ہوں، نہ فساد اور ظلم کے لیے؛ بلکہ اپنے نانا کی امت میں اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں اور اپنے نانا اور اپنے والد علی بن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں۔
یہاں ایک اہم لفظ ہے:
اِصْلَاح
امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کا ایک بنیادی مقصد اصلاحِ امت بیان فرمایا۔
اصلاح کا مطلب خیر خواہی، لوگوں کی عزت، لوگوں کی ہدایت اور معاشرے کی درستگی کی کوشش ہے۔
امام حسین علیہ السلام گھر سے نکل کر صرف لوگوں کو چراغ دکھانے نہیں آئے تھے؛ آپ نے اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ دوسروں کی اصلاح سے پہلے انسان کو اپنی ذمہ داری اور اپنے کردار کو سمجھنا چاہیے۔
جب کوئی انسان خیر خواہی کے جذبے سے دوسرے انسان کے سامنے آتا ہے تو اس کی بات کے اثر انداز ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن اگر انسان اپنے آپ کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا سمجھنے لگے، اپنے آپ کو برتر اور دوسرے کو کمتر سمجھنے لگے، تو وہاں ایک دیوار پیدا ہو جاتی ہے۔
اور جہاں انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی ہو جائیں، وہاں اصلاح کا راستہ دشوار ہو جاتا ہے۔
سیرت کا مفہوم
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سیرت صرف ایک وقتی عمل کا نام نہیں ہے۔ بلکہ سیرت اس مسلسل اور مستقل طرزِ عمل کا نام ہے جو انسان زندگی کے مختلف مراحل اور مختلف حالات میں اختیار کرتا ہے۔
حالات بدل جائیں، زمانہ بدل جائے، ماحول بدل جائے، لیکن اگر انسان اصول، اخلاق اور حق کے راستے پر ثابت قدم رہے تو یہی اس کی سیرت بنتی ہے۔
اسی لیے امام حسین علیہ السلام نے اپنے نانا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے والد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی سیرت پر چلنے کا اعلان فرمایا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے کردار کے ذریعے اپنے بزرگوں سے اپنی نسبت ثابت کرتا ہے۔
اصل کامیابی اس وقت ہے جب بزرگوں کی تربیت اولاد کے کردار میں بولنے لگے۔
دعوتِ ذوالعشیرہ اور تربیت کی کامیابی
واقعۂ دعوتِ ذوالعشیرہ بھی تربیت کے اس پہلو کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قریبی خاندان کو جمع کرکے اپنی دعوت پیش کی اور نصرت و معاونت کے لیے آواز دی۔ اس موقع پر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
یہاں تربیت کی ایک بڑی حقیقت سامنے آتی ہے:
ایک مربی کے لیے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی تربیت اس کی زندگی ہی میں اس کی اولاد کے کردار میں ظاہر ہونے لگے۔
اگر اولاد اپنے بزرگوں کی تعلیمات کو اپنے کردار میں پیش کرنے لگے تو یہ تربیت کی کامیابی کی علامت ہے۔
انسان اگر اپنے اندر کردار اور عمل پیدا کر لے تو اس کا عمل دوسروں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
لہٰذا دوسروں کو تربیت دینے، نصیحت کرنے اور اصلاح کی دعوت دینے سے پہلے ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔
یہ خیال رہے کہ ہمارے کردار سے ہماری تربیت پہچانی جاتی ہے ـ
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے:«كُونُوا لَنَا زَيْنًا، وَلَا تَكُونُوا عَلَيْنَا شَيْنًا.» یعنی:ہمارے لیے باعثِ زینت بنو، ہمارے لیے باعثِ رسوائی نہ بنو۔
یہ مختصر جملہ ہماری پوری زندگی کے لیے ایک عظیم ذمہ داری بیان کرتا ہے۔
جب انسان بولتا ہے تو صرف اس کی اپنی ذات نہیں بولتی؛ اس کی گفتگو کے ذریعے اس کی تربیت، اس کا گھر، اس کے والدین، اس کے اساتذہ اور اس کا معاشرہ بھی پہچانا جاتا ہے۔
ہم اپنی ذات کے اعتبار سے مستقل افراد ہیں، لیکن ہماری شخصیت ہمارے خاندان، ہماری تربیت گاہ اور ہمارے معاشرے کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔
اگر اولاد اچھا کردار پیش کرے تو لوگ کہتے ہیں:
سلام ہو ان کے والدین پر، انہوں نے کتنی اچھی تربیت کی ہے۔
اور اگر کردار میں کمی آ جائے تو لوگ والدین اور تربیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔
اس لیے ہماری ہر حرکت، ہر گفتگو اور ہر تحریر ہماری تربیت کا تعارف بن سکتی ہے۔
سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داری
آج کے دور میں ہمیں اس ذمہ داری کو خاص طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔
جب آپ کوئی تحریر، پیغام یا وائس میسج سوشل میڈیا پر نشر کرتی ہیں تو یہ نہ سمجھیں کہ یہ صرف آپ کی ذات تک محدود ہے۔
آپ کی بات بہت سے لوگ دیکھتے اور سنتے ہیں، اور اسی کے ذریعے آپ کی فکری تربیت، اخلاق اور وابستگی کے بارے میں رائے قائم کر تے ہیں۔
اس لیے کوئی پیغام بھیجنے سے پہلے اسے اچھی طرح پرکھیں کہ
کیا یہ بات درست ہے؟
کیا اسے بھیجنا مناسب ہے؟
کہیں اس کا کوئی غلط مفہوم تو نہیں نکلے گا؟
کہیں اس سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوگی؟
کہیں اس سے ہمارے والدین، اساتذہ یا ہمارے دینی ماحول کی بدنامی تو نہیں ہوگی؟ وغیرہ وغیرہ
اس بات کا دھیان رہے کہ سوشل میڈیا بھڑاس نکالنے کی جگہ نہیں؛ یہ بھی افکار و کردار کے اظہار کا ایک میدان ہے۔
اس لیے بولنے سے پہلے بھی سوچیں اور لکھنے سے پہلے بھی سوچیں۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی پہچان اور ہماری ذمہ داری
اللہ تعالیٰ کی معرفت ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہلِ بیت علیہم السلام کو اپنے کردار کے ذریعے دنیا کو پہچنوائیں۔
ہم جیسا کردار پیش کریں گے، دنیا ہماری نسبت اور وابستگی کو اسی کردار کے آئینے میں دیکھے گی۔
خصوصاً آپ بیٹیاں، جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے محبت کرتی ہیں اور نسبت رکھتی ہیں، آپ کے لیے یہ ایک عظیم شرف بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔
آج کی دنیا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیاتِ طیبہ کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کر سکتی؛ لیکن وہ ان کی تعلیمات کو آپ کے کردار کے ذریعے پہچان سکتی ہے۔
اس لیے آپ کا کردار یہ پیغام دے:
میری مثالی شخصیت صرف میری ماں نہیں بلکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی ہیں۔
اس سے بڑا شرف اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہمارے کردار کے ذریعے دنیا ایک آفاقی اور الٰہی شخصیت کو پہچانے۔
شیعہ معرفت اور کردار کا نام ہے:
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ صرف نسبت کا دعویٰ کافی نہیں؛ نسبت کے تقاضوں کو کردار میں ظاہر کرنا بھی ضروری ہے۔
اگر ہم اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہماری زندگی میں اس محبت کے آثار بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔
ہماری عبادت، ہمارا اخلاق، ہماری گفتگو، ہمارا طرزِ معاشرت، ہمارے معاملات اور ہماری پاکیزگی اس نسبت کی گواہی دیں۔
محض ایک عنوان انسان کو اہلِ بیت علیہم السلام کا حقیقی نمائندہ نہیں بناتا؛ کردار اس نسبت کو معنی عطا کرتا ہے۔
اسی لیے اپنی زندگی میں تقویٰ، طہارتِ نفس اور ضبطِ نفس پیدا کرنا ضروری ہے۔
تقویٰ یعنی نفس کو مہار کرنا، نفس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا
اور اسی مقام پر ایک بنیادی چیز سامنے آتی ہے:
تقویٰ
تقویٰ کا بنیادی مفہوم اللہ کی نافرمانی سے بچنا، اپنے آپ کو گناہ سے محفوظ رکھنا اور اللہ کی اطاعت اختیار کرنا ہے۔
اس کا ایک عملی پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور خواہشات پر قابو رکھے اور نفس کو بے لگام نہ چھوڑے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:«أَلَا وَإِنَّ الْخَطَايَا خَيْلٌ شُمُسٌ، حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا، وَخُلِعَتْ لُجُمُهَا، فَتَقَحَّمَتْ بِهِمْ فِي النَّارِ. أَلَا وَإِنَّ التَّقْوَى مَطَايَا ذُلُلٌ، حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا، وَأُعْطُوا أَزِمَّتَهَا، فَأَوْرَدَتْهُمُ الْجَنَّةَ.»یعنی گناہوں کی مثال ایسے سرکش گھوڑوں کی ہے جن کی مہار ان کے سواروں سے چھین لی گئی ہو اور وہ انہیں اپنی مرضی سے ہلاکت کی طرف لے جائیں؛ جبکہ تقویٰ ایسے رام کیے ہوئے سواری کے جانوروں کی مانند ہے جن کی مہار ان کے سواروں کے ہاتھ میں ہے اور وہ انہیں نجات کی طرف لے جاتے ہیں۔
اس مثال کو آسان لفظوں میں یوں سمجھیں:
اگر گھوڑا قابو میں ہے تو آپ اسے جدھر چاہیں لے جائیں گے۔
لیکن اگر گھوڑا بے قابو ہے تو آپ اس پر سوار ضرور ہوں گے، مگر وہ آپ کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے گا لے جائے گا۔
تقویٰ یہ ہے کہ نفس کی مہار ہمارے ہاتھ میں ہو؛ ہم نفس کی خواہش کے پیچھے نہ چلیں، بلکہ اپنے نفس کو اللہ کی رضا کے تابع کریں۔
روزہ اور تقویٰ کے درمیان رابطہ
قرآنِ کریم روزے کا مقصد تقویٰ بیان فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾(سورۃ البقرۃ، آیت ۱۸۳)
یعنی:اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
روزے اور تقویٰ کا تعلق بہت واضح ہے۔
بازار سے کوئی چیز خرید کر آپ گھر لاتے ہیں۔ پیسہ آپ کا ہے، اختیار آپ کا ہے، کھانے کی خواہش بھی آپ کی ہے؛ لیکن رمضان میں اذانِ صبح سے اذانِ مغرب تک آپ صرف اس لیے کھانے پینے سے رک جاتے ہیں کہ اللہ نے اس وقت رکنے کا حکم دیا ہے۔
یہاں انسان اپنی خواہش پر خدا کی مرضی کو مقدم کرتا ہے۔
جب ہماری خواہش پر خدا کی پسند غالب آ جائے تو یہ یہی تقویٰ ہے۔
اسی لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق اپنے اندر تقویٰ، طہارتِ نفس اور ضبطِ نفس پیدا کریں۔
اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہماری زبان سے زیادہ ہمارا کردار بولے۔
آخری پیغام
آخر میں میں اپنی ان تمام بیٹیوں سے کہنا چاہتا ہوں:
آپ صرف اپنے لیے نہیں ہیں۔
آپ اپنے والدین کی نمائندہ ہیں۔
آپ اپنے اساتذہ کی تربیت کا آئینہ ہیں۔
آپ اپنے معاشرے کی شناخت ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، آپ اہلِ بیت علیہم السلام سے اپنی نسبت کی امین ہیں۔
اس لیے کوشش کریں کہ آپ کی زبان، آپ کا اخلاق، آپ کی گفتگو، آپ کی تحریر، آپ کا سوشل میڈیا اور آپ کا پورا کردار یہ گواہی دے کہ آپ نے قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام سے کچھ سیکھا ہے۔
ہم امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے منسوب اس مناجاتی جملے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں:
«إِلٰهِي أَنْتَ كَمَا أُرِيدُ، فَاجْعَلْنِي كَمَا تُرِيدُ.»
اے میرے معبود! تو ویسا ہی ہے جیسا میں چاہتا ہوں؛ پس مجھے ویسا بنا دے جیسا تو چاہتا ہے۔










آپ کا تبصرہ